Friday, December 25, 2009

دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا

دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا

دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا
بدگمانی میں گماں کا ذائقہ کیسا رہا

زلزلے تو ذات کی دہلیز پر آتے رہے
ناقۂ خواہش ہوا سے رابطہ کیسا رہا

شدّتِ غم کچھ ذرا کم ہو تو بتلانا مجھے
جبر موسم میں انا کا تجزیہ کیسا رہا

فصلِ گُل میں خوشبوؤں کی قید میں جکڑے رہے
پتھروں سے زخم تک کا فاصلہ کیسا رہا

وقت کے ساحل پہ طوفاں میں گھرے سوچا کئے
بادباں سے کشتیوں کا فاصلہ کیسا رہا

آرزؤں کے تعاقب میں ہوئے اندھے مگر
ترکِ جاں ، ترکِ وفا کا حوصلہ کیسا رہا

آبلہ پا ہم سفر ، گردِ سفر میں کھو گئے
کیا بتاؤں ہجرتوں کا سلسلہ کیسا رہا

یہ میری وحشت ، میری دیوانگی بتلائے گی
کاتبِ تقدیر تیرا فیصلہ کیسا رہا

No comments:

Post a Comment