دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا
دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا
بدگمانی میں گماں کا ذائقہ کیسا رہا
زلزلے تو ذات کی دہلیز پر آتے رہے
ناقۂ خواہش ہوا سے رابطہ کیسا رہا
شدّتِ غم کچھ ذرا کم ہو تو بتلانا مجھے
جبر موسم میں انا کا تجزیہ کیسا رہا
فصلِ گُل میں خوشبوؤں کی قید میں جکڑے رہے
پتھروں سے زخم تک کا فاصلہ کیسا رہا
وقت کے ساحل پہ طوفاں میں گھرے سوچا کئے
بادباں سے کشتیوں کا فاصلہ کیسا رہا
آرزؤں کے تعاقب میں ہوئے اندھے مگر
ترکِ جاں ، ترکِ وفا کا حوصلہ کیسا رہا
آبلہ پا ہم سفر ، گردِ سفر میں کھو گئے
کیا بتاؤں ہجرتوں کا سلسلہ کیسا رہا
یہ میری وحشت ، میری دیوانگی بتلائے گی
کاتبِ تقدیر تیرا فیصلہ کیسا رہا
دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا
بدگمانی میں گماں کا ذائقہ کیسا رہا
زلزلے تو ذات کی دہلیز پر آتے رہے
ناقۂ خواہش ہوا سے رابطہ کیسا رہا
شدّتِ غم کچھ ذرا کم ہو تو بتلانا مجھے
جبر موسم میں انا کا تجزیہ کیسا رہا
فصلِ گُل میں خوشبوؤں کی قید میں جکڑے رہے
پتھروں سے زخم تک کا فاصلہ کیسا رہا
وقت کے ساحل پہ طوفاں میں گھرے سوچا کئے
بادباں سے کشتیوں کا فاصلہ کیسا رہا
آرزؤں کے تعاقب میں ہوئے اندھے مگر
ترکِ جاں ، ترکِ وفا کا حوصلہ کیسا رہا
آبلہ پا ہم سفر ، گردِ سفر میں کھو گئے
کیا بتاؤں ہجرتوں کا سلسلہ کیسا رہا
یہ میری وحشت ، میری دیوانگی بتلائے گی
کاتبِ تقدیر تیرا فیصلہ کیسا رہا

No comments:
Post a Comment