Friday, December 25, 2009

سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہوں گے

سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہوں گے

سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہوں گے
ہوئے ناشاد جو اتنے تو ہم دل شاد بھی ہوں گے

زمانے کو برا کہتے نہیں ہم ہی زمانہ ہیں
کہ ہم جو صید لگتے ہے ہمیں صیاد بھی ہوں گے

بھلا بیٹھے ہیں وہ ہر بات اس گزرے زمانے کی
مگر قصے اس موسم کے ان کو یاد بھی ہوں گے

ہر اک شے اس ضد سے قائم ہے جہاں خواب ہستی میں
جہاں پر دشت ہے آثار ابر و باد بھی ہوں ہوں گے

منیر افکار تیرے جو یہاں برباد پھرتے ہیں
کسی آتے سمے کے شہر کی بنیاد بھی ہوں گے


منیر نیازی

No comments:

Post a Comment