Thursday, December 17, 2009

ہم ہار گئے

ہار گئے

اقرار گئے ، انکار گئے ، ہم ہار گئے
آنکھوں سے سب اشعار گئے ، ہم ہار گئے

کچھ یادیں اس کی بیچ سمندرڈوب گئی
کچھ سپنے رہ اس پار گئے ، ھم ہار گئے

اک عمر رہے ہم جیت سے بے پرواہ لیکن
جب جیتنا چاہا ہار گئے ، ہم ہار گئے

یوں الجھے دنیا کے دکھ میں بے سدھ ہو کر
سب جھوٹے سچے پیار گئے ، ہم ہار گئے

پہلے تو پریت میں اپنے آپ سے دور ہوئے
پھر یار گئے ، دلدار گئے ، ہم ہار گئے

No comments:

Post a Comment