Tuesday, December 29, 2009

سوچ کی رہ گزر سے آگے ہیں

سوچ کی رہ گزر سے آگے ہیں

سوچ کی رہ گزر سے آگے ہیں
اس لئے راہبر سے آگے ہیں

سلسلہ ہے سفر کا اتنا دراز
بحر و بر خشک و تر سے آگے ہیں

رات ڈھلنے کی خوشی یوں مت منا
معرکے اب سحر سے آگے ہیں

منظروں پر یقین حالات سے سمجھوتہ
سارے منظر نظر سے آگے ہیں

ٹھوس باتوں پر ہے یقین اپنا
ہم اگر اور مگر سے آگے ہیں

ہم جو پیچھے ہیں کچھ سبب بھی ہے
آپ تو شور و شر سے آگے ہیں

2 comments:

  1. آپ تو سب سے آگے ہیں اور ہم ابھی تک کارواں میں شامل بھی نہ ہو پائے ۔ یہ تو مذاق تھا ۔ نظم بہت اچھی ہے

    از راہ کرم نام اور یو آر ایل والی آپشن اس میں ڈال دیجئے تاکہ وہ قاری جن کے بلاگ بلاگر یا بلاگسپاٹ پر نہیں وہ بھی تبصرہ کر سکیں

    http://www.theajmals.com/blog/

    ReplyDelete