Sunday, December 20, 2009

چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
ملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں

ابھی وہ منزلِ فکر و نظر نہیں آئی
ہے آدمی ابھی جرم و سزا کے رستے میں

یہ نفرتوں کی فصیلیں ، جہالتوں کے حصار
نہ رہ سکیں گے ہماری صدا کے رستے میں

مٹا سکے نہ کوئی سیلِ انقلاب جنہیں
وہ نقش چھوڑے ہیں ہم نے وفا کے رستے میں

زمانہ ایک سا جالب سدا نہیں رہتا
چلیں گے ہم بھی کبھی سر اٹھا کے رستے میں

حبیب جالب

No comments:

Post a Comment