خود کو آشائشِ دنیا سے ہٹا کر دیکھو
خود کو آشائشِ دنیا سے ہٹا کر دیکھو
تم میں سورج ہے ، شبِ تار میں آکر دیکھو
یوں تو چُلّو میں سمندر کو ہے بھرنا آساں
بوجھ اک بوند کا پلکوں پہ اٹھا کر دیکھو
یہ بھی کھل سکتے ہیں گر شبنمی آغوش ملے
خشک پھولوں کو بھی دامن میں سجا کر دیکھو
گزری یادوں میں نہیں ، حال میں خود کو ڈھونڈو
تلخ ماضی کی ہر اک بات بھلا کر دیکھو
وقت کردیتا ہے انسان کے ہر غم کا علاج
رشتہِ درد بھی کچھ روز نبھا کر دیکھو
پل میں کس طرح ہوا طے ، کئی صدیوں کا سفر
یہ حقیقت بھی کبھی دنیا کو بتا کر دیکھو
خود کو آشائشِ دنیا سے ہٹا کر دیکھو
تم میں سورج ہے ، شبِ تار میں آکر دیکھو
یوں تو چُلّو میں سمندر کو ہے بھرنا آساں
بوجھ اک بوند کا پلکوں پہ اٹھا کر دیکھو
یہ بھی کھل سکتے ہیں گر شبنمی آغوش ملے
خشک پھولوں کو بھی دامن میں سجا کر دیکھو
گزری یادوں میں نہیں ، حال میں خود کو ڈھونڈو
تلخ ماضی کی ہر اک بات بھلا کر دیکھو
وقت کردیتا ہے انسان کے ہر غم کا علاج
رشتہِ درد بھی کچھ روز نبھا کر دیکھو
پل میں کس طرح ہوا طے ، کئی صدیوں کا سفر
یہ حقیقت بھی کبھی دنیا کو بتا کر دیکھو

No comments:
Post a Comment