اُداسی کم نہیں ہوتی
ہزار اس دل کو سمجھایا ، اُداسی کم نہیں ہوتی
غموں کا ساتھ ہے سایہ ، اُداسی کم نہیں ہوتی
کبھی صبحوں نے بھولے سے اگر کوئی خوشی دے دی
بہت شاموں نے تڑپایا ، اُداسی کم نہیں ہوتی
مجھے اظہار کی صورت کوئی دے دے میرے مولا
اگر نہ ہوں لب گویا ، اُداسی کم نہیں ہوتی
شکستہ ہی سہی دامن میں کوئی خوشی تو ہو
جب آنسو ہی ہوں سرمایہ ، اُداسی کم نہیں ہوتی
میرے پہلو میں اکثر لاکھوں غم سوئے رہتے ہیں
یہ کیسا سانحہ آیا ، اُداسی کم نہیں ہوتی
ہزار اس دل کو سمجھایا ، اُداسی کم نہیں ہوتی
غموں کا ساتھ ہے سایہ ، اُداسی کم نہیں ہوتی
کبھی صبحوں نے بھولے سے اگر کوئی خوشی دے دی
بہت شاموں نے تڑپایا ، اُداسی کم نہیں ہوتی
مجھے اظہار کی صورت کوئی دے دے میرے مولا
اگر نہ ہوں لب گویا ، اُداسی کم نہیں ہوتی
شکستہ ہی سہی دامن میں کوئی خوشی تو ہو
جب آنسو ہی ہوں سرمایہ ، اُداسی کم نہیں ہوتی
میرے پہلو میں اکثر لاکھوں غم سوئے رہتے ہیں
یہ کیسا سانحہ آیا ، اُداسی کم نہیں ہوتی

No comments:
Post a Comment