Tuesday, December 15, 2009

اُداسی کم نہیں ہوتی

اُداسی کم نہیں ہوتی

ہزار اس دل کو سمجھایا ، اُداسی کم نہیں ہوتی
غموں کا ساتھ ہے سایہ ، اُداسی کم نہیں ہوتی

کبھی صبحوں نے بھولے سے اگر کوئی خوشی دے دی
بہت شاموں نے تڑپایا ، اُداسی کم نہیں ہوتی

مجھے اظہار کی صورت کوئی دے دے میرے مولا
اگر نہ ہوں لب گویا ، اُداسی کم نہیں ہوتی

شکستہ ہی سہی دامن میں کوئی خوشی تو ہو
جب آنسو ہی ہوں سرمایہ ، اُداسی کم نہیں ہوتی

میرے پہلو میں اکثر لاکھوں غم سوئے رہتے ہیں
یہ کیسا سانحہ آیا ، اُداسی کم نہیں ہوتی

No comments:

Post a Comment