Friday, December 25, 2009

آتا ہے اِس طرح کا دسمبر کبھی کبھی

آتا ہے اِس طرح کا دسمبر کبھی کبھی

آتا ہے اِس طرح کا دسمبر کبھی کبھی
جا بیٹھتی ہوں دھوپ میں چھت پر کبھی کبھی

کچھ معجزہ نہیں تیرے دل میں میرا خیال
اُگتے ہیں سنگ میں بھی صنوبر کبھی کبھی

یہ جو مجھے بلاتا ہے تُو اتنے پیار سے
کس کا گمان ہوتا ہے مجھ پر کبھی کبھی

سوچا تھا میں نے لمس کی لذت کا فاعدہ
اب ایک یاد جاتی ہے چھُو کر کبھی کبھی

میں سیپیاں چُنوں کہ چُنوں ریت کا مکان
دیتا ہے موقعہ مجھ کو سمندر کبھی کبھی

رہنے لگا انہیں میری تنہائی کا خیال
آ بیٹھتے ہیں پاس کبوتر کبھی کبھی

اِک یہ بھی وقت ہے کہ میں تیری تلاش میں
جاتی ہوں اپنی ذات سے باہر کبھی کبھی

No comments:

Post a Comment