Tuesday, December 29, 2009

سوچ کی رہ گزر سے آگے ہیں

سوچ کی رہ گزر سے آگے ہیں

سوچ کی رہ گزر سے آگے ہیں
اس لئے راہبر سے آگے ہیں

سلسلہ ہے سفر کا اتنا دراز
بحر و بر خشک و تر سے آگے ہیں

رات ڈھلنے کی خوشی یوں مت منا
معرکے اب سحر سے آگے ہیں

منظروں پر یقین حالات سے سمجھوتہ
سارے منظر نظر سے آگے ہیں

ٹھوس باتوں پر ہے یقین اپنا
ہم اگر اور مگر سے آگے ہیں

ہم جو پیچھے ہیں کچھ سبب بھی ہے
آپ تو شور و شر سے آگے ہیں

Friday, December 25, 2009

دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا

دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا

دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا
بدگمانی میں گماں کا ذائقہ کیسا رہا

زلزلے تو ذات کی دہلیز پر آتے رہے
ناقۂ خواہش ہوا سے رابطہ کیسا رہا

شدّتِ غم کچھ ذرا کم ہو تو بتلانا مجھے
جبر موسم میں انا کا تجزیہ کیسا رہا

فصلِ گُل میں خوشبوؤں کی قید میں جکڑے رہے
پتھروں سے زخم تک کا فاصلہ کیسا رہا

وقت کے ساحل پہ طوفاں میں گھرے سوچا کئے
بادباں سے کشتیوں کا فاصلہ کیسا رہا

آرزؤں کے تعاقب میں ہوئے اندھے مگر
ترکِ جاں ، ترکِ وفا کا حوصلہ کیسا رہا

آبلہ پا ہم سفر ، گردِ سفر میں کھو گئے
کیا بتاؤں ہجرتوں کا سلسلہ کیسا رہا

یہ میری وحشت ، میری دیوانگی بتلائے گی
کاتبِ تقدیر تیرا فیصلہ کیسا رہا

آتا ہے اِس طرح کا دسمبر کبھی کبھی

آتا ہے اِس طرح کا دسمبر کبھی کبھی

آتا ہے اِس طرح کا دسمبر کبھی کبھی
جا بیٹھتی ہوں دھوپ میں چھت پر کبھی کبھی

کچھ معجزہ نہیں تیرے دل میں میرا خیال
اُگتے ہیں سنگ میں بھی صنوبر کبھی کبھی

یہ جو مجھے بلاتا ہے تُو اتنے پیار سے
کس کا گمان ہوتا ہے مجھ پر کبھی کبھی

سوچا تھا میں نے لمس کی لذت کا فاعدہ
اب ایک یاد جاتی ہے چھُو کر کبھی کبھی

میں سیپیاں چُنوں کہ چُنوں ریت کا مکان
دیتا ہے موقعہ مجھ کو سمندر کبھی کبھی

رہنے لگا انہیں میری تنہائی کا خیال
آ بیٹھتے ہیں پاس کبوتر کبھی کبھی

اِک یہ بھی وقت ہے کہ میں تیری تلاش میں
جاتی ہوں اپنی ذات سے باہر کبھی کبھی

سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہوں گے

سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہوں گے

سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہوں گے
ہوئے ناشاد جو اتنے تو ہم دل شاد بھی ہوں گے

زمانے کو برا کہتے نہیں ہم ہی زمانہ ہیں
کہ ہم جو صید لگتے ہے ہمیں صیاد بھی ہوں گے

بھلا بیٹھے ہیں وہ ہر بات اس گزرے زمانے کی
مگر قصے اس موسم کے ان کو یاد بھی ہوں گے

ہر اک شے اس ضد سے قائم ہے جہاں خواب ہستی میں
جہاں پر دشت ہے آثار ابر و باد بھی ہوں ہوں گے

منیر افکار تیرے جو یہاں برباد پھرتے ہیں
کسی آتے سمے کے شہر کی بنیاد بھی ہوں گے


منیر نیازی

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

گیا تو اس طرح گیا کہ مدتوں نہیں ملا
ملا جو پھر تو یوں کہ وہ ملال میں ملا مجھے

تمام علم زیست کا گزشتگاں سے ہی ہوا
عمل گزشتہ دور کا مثال میں ملا مجھے

ہر ایک سخت وقت کے سوا بھی ایک وقت ہے
نشاں کمال فکر کا زوال میں ملا مجھے

نہال سبز رنگ میں جمال جس کا ہے منیرؔ
کسی قدیم خواب کے محال میں ملا مجھے

منیر نیازی

جگمگ جگمگ کرتی آنکھیں

جگمگ جگمگ کرتی آنکھیں

جگمگ جگمگ کرتی آنکھیں
ہنستی باتیں کرتی آنکھیں

شاید مجھ کو ڈھونڈ رہی ہیں
چاروں جانب تکتی آنکھیں

اصل میں یہ بے خوف بہت ہیں
ظاہر میں یہ ڈرتی آنکھیں

پل میں خوشی سے بھر جاتی ہیں
پل میں آہیں بھرتی آنکھیں

یار منیر چلو پھر دیکھیں
روز اک وعدہ کرتی آنکھیں

منیر نیازی

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

اب کون منتظر ہے ہمارے لئیے وہاں
شام آ گئ ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

آج 26 دسمبر منیر نیازی کا یومِ وفات ہے

http://www.youtube.com/watch?v=TC_vQkn645Y